حرفِ آغاز


میرے آقا حُضُور سیدی اعلٰی حضرت رَضِی اللہ عنہُ اپنے
،شہرہ آفاق کلام حداحِق بخشِش میں فرماتے ہیں

کیسے آقاوں کا بندہ ہُوں رضا
بول بالے میری سرکاروں گے


،اور میرے آقا سیدی باپا امیرِ اہلِسُنت مَدَظِلہ فرماتے ہیں

تُو ہے بے کسوں کا یاور، اے میرے غریب پرور
ہے سخِی تیرا گھرانا، مَدَنِی مَدِینے والے
صلی اللہ علیہِ وَسَلم

،سگِ عطار و رضا
جُنید عطارِی
Showing posts with label Hope. Show all posts
Showing posts with label Hope. Show all posts

فلک پے چرچے ہیں بڑے یاروں کے


فلک پے چرچے ہیں بڑے یاروں کے
کیا ہُوا رُتبہ بول بالے پیاروں کے

سزاِ غم پائِی میں نے کیسی مُحبت میں
جرمِ اُلفت میں مِلا رُتبہ غم کے ماروں میں

تڑپ کر غم سے مولا اب دُھائِی ہے دُھائِی
جانِ تجلٰی غم مِٹا اپنے عِصّیاں شُعاروں کے

ترِی کریمی وہ شان کہ بس سُن لیا میں نے
مدد کو آ ہو ئے اِستغاثے غم کے ماروں کے

جاں تڑپے ہے مری جاں مُرغِ بِسمِل جیسی
دُور ہو غم سارے اے شہنشاہ غم گُساروں کے

کِیوں اب نہ پُکارُوں میں اُس کریم کو جُنید
شاں ہے اعلٰی اُن کی رُتبے اعلٰی پیاروں کے

کیا بات رَضا تیری جو یہ کہہ دیا جُنید
جِن کا بندہ ہُوں میں بول بالے سرکاروں کے

جشن تیری یادوں کے آنے کا منایا ہے


جشن تیری یادوں کے آنے کا منایا ہے
ہر سُو تیری آمد کا چرچا کرایا ہے

تیری خاطِر خُوشیوں سے مُنہ موڑ رکھا ہے
تیرے لیے ہی خُود کو میں نے آگ میں جَلایا ہے

قسم خُدا کی تُجھ سا حَسِیں مری آنکھوں نے نہ دیکھا ہے
جب سے تیرا جلوہ میری آنکھوں میں سمایا ہے

کیا بسے گا کوئی گُل و زار آنکھوں میں
تیرے دَرّ کا خَار میں نے آنکھوں میں سجایا ہے

کاہے کو مُشکِل میں میں تنہا ہو جاوں گا
اُمید سے ہوں ترا سنبھالا کام آیا ہے

کیوں نہ تیرے آنے سے خُوشیاں مناؤں میں
ہر ذَرّے نے ترے آنے کا جشن منایا ہے

جِس خَار کو چُھوا تُو نے پُھول بنا دِیا اُس کو
اور تُو نے آتے جاتے مُردہ جِلایا ہے

غم کے بادَل چَھٹ گئے روشنی ہُوئی چار سُو
یہ اُجالا ترے چہرے کی صُبح نے پھیلایا ہے

تیری آمد سے ہر غم خُوشی میں بدل گیا میرا
مگر تیری یاد نے مُجھے زار و زار رُلایا ہے

خیر سے آئیں وہ دِن زِندگی میں میری
میں کہوں دَرّ کا مُجھے خاکروب بنایا ہے

تُجھ سے نہ مانگیں تو کِدھر کو جائیں ہم
کیوں دَرّ دَرّ پِھریں سَگ یہاں دانہ پانی پایا ہے

تیرا کرم ہے پیارے جو مقام میں نے پایا ہے
ورنہ مُنہ کہاں جُنید کا جو لفظوں نے دِکھلایا ہے

Download here.

عزت سے آئے ہے سُواری محبوب کی


عزت سے آئے ہے سُواری محبوب کی
عاشِق ہوئے ذلیل بھیڑ میں جا رہا ہے

تنہائی میں دُلہن رو رو کر مر گئی
جنازے کو دینے کاندھا دُولہا جا رہا ہے

ساری عُمر رو رو کر عاشِق تنہا مر گیا
اب ہنستے ہوئے یار کا جنازہ جا رہا ہے

یہ جگہ ہے کیسی اور میرا یار کہاں ہے؟
عاشِق کو کھائے غم چھوڑے جنازہ جا رہا ہے

کاہے کو عاشِق چل چل کر پاؤں تَھکاتے ہیں
اِدھر خَیالوں میں مِلنے میرا یار آ رہا ہے

عاشِق اندھا ہوئے بِیچ بازار گِر گیا ہے
لوگوں میری آنکھوں میں یار کا چہرہ آ رہا ہے

غَم سے آہ یُونہی نہیں کیے ہیں سارے
ہر ذَرّہ میرے یار کا پَیغام سُنا رہا ہے

تنہائی میں عاشِق اَشکوں سے مَحفِل سجائے ہے
ہائے یار قریب ہے عاشِق دُور جا رہا ہے

آنکھیں خُشک ہیں دونوں میرا دِل رو رہا ہے
دَکھتا ہے محبوب بار بار بِچھڑا جا رہا ہے

یُوں جلنا آگ میں اِک پل بھی چین نہ آئے
بے ہوش ہوئے یادوں میں زَمانہ جا رہا ہے

سَنبھلتا نہیں ہے دِل مرا حَلَق میں آ نِکلا
دَھم سے گرا وُجُود یہ جُنید جا رہا ہے

Download here.

عاجَز تو کب سے ہیں محبوب کے غم میں


عاجَز تو کب سے ہیں محبوب کے غم میں
اَشکوں کی صورت میں نتائج مِلتے ہیں

خِاک دریا میں ڈُوب کر میں آنسُو بہاؤں
میرے اَشکوں میں بہتے دریا مِلتے ہیں

میں اُن گلیوں میں تنہا پڑا ہوں جُنید
جہاں ایک جاتا ہے اور چار مِلتے ہیں

اک پل بھی کہاں دِل میں میں سُکون پاؤں
کہ سیخ کباب ہوئے وُجُود مِلتے ہیں

میری آنکھوں کو دید کی روشنی دے دو
کب سے ہوئے اَندھے ہوشیاروں میں مِلتے ہیں

یُونہی خُود کو لاکھ زَخم نہیں دیتے ہیں ہم
کہ راستے میں لاکھوں اپنے ہَمراز مِلتے ہیں

میں پیاسا ہوں کب سے تِشنگی نہیں بُجھتی
میرے اَندر جوش مارتے دریا ہزار مِلتے ہیں

میں کب سے آنکھیں اُنکی یاد میں سرد کیے ہوں
میرے آنسُوؤں میں بہتے دو جہان مِلتے ہیں

اِنہیں لَمحوں میں جیت کر ہارا ہوں جُنید
جِن لمحوں میں مُجھے میرے مَحبوب مِلتے ہیں

اَپنوں کا پیارا بھی ہو کر اَپنوں سے گھائَل ہوں
مُجھے سَتانے میں مرے اَپنوں کے نِشاں مِلتے ہیں

میں کیسے اِس راز کو مُنکشف کروں جُنید
کہ ہر جواب میں چُھپے لاکھوں اَسرار مِلتے ہیں

Download here.

چل کے وہ اِدھر بیچ مکان آئے ہے


چل کے وہ اِدھر بیچ مکان آئے ہے
ہائے او ظالِم کیا داد کمائے ہے

مُجھے پُھونک کر بھٹی میں خاک کر دیا
اب تُجھ کو مرے مَزار پر قرار آئے ہے

آؤ تُمہاری خاطِر ہی آنکھیں بچائے ہیں
مُجھے آرام دو سب کو جَلال آئے ہے

سُورج بھی سامِنے تیرے پِھیکا پڑ گیا
تُجھے دیکھ کر چاند کو بھی داغ آئے ہے

کُچھ دیر قیام کیے تھے رِیاضَت تھی بہت
مت جا او نازُک تُجھے آرام آئے ہے

ساتھ چھوڑ کر مرا یُوں نہ جاؤ پیارے
مرے دُشمنوں کو مرا خیال آئے ہے

اچھا کیے ہو یار مُجھ سے پردہ کیے ہو
لوگوں میں چاند سُورج اور غُرور آئے ہے

دیکھ لیتے ہیں جُنید اُن کا آنا کیسا رہے گا
یہ زِندگی تو گُرز گئی مُجھ کو موت آئے ہے

Download here.