حرفِ آغاز


میرے آقا حُضُور سیدی اعلٰی حضرت رَضِی اللہ عنہُ اپنے
،شہرہ آفاق کلام حداحِق بخشِش میں فرماتے ہیں

کیسے آقاوں کا بندہ ہُوں رضا
بول بالے میری سرکاروں گے


،اور میرے آقا سیدی باپا امیرِ اہلِسُنت مَدَظِلہ فرماتے ہیں

تُو ہے بے کسوں کا یاور، اے میرے غریب پرور
ہے سخِی تیرا گھرانا، مَدَنِی مَدِینے والے
صلی اللہ علیہِ وَسَلم

،سگِ عطار و رضا
جُنید عطارِی
Showing posts with label sha'eri. Show all posts
Showing posts with label sha'eri. Show all posts

اُٹھا بُلندیوں پے یہ گُمنام کون ہے


اُٹھا بُلندیوں پے یہ گُمنام کون ہے
خاک بِھی تَرسَے ہے یہ انجان کون ہے

جِس کِسی کو دیکھا کیسا خیال آیا
یہ ہستِی کِس کی ہے مہمان کون ہے

ہر بُلندِی پے پہنچا، آسماں پے دیکھا
میں بُھولا ہی رہا میزبان کون ہے

جو ہستِی میں بستا جو خُود میں ہے رہتا
کِیوں اُلجھن ہے چھائی ہم نام کون ہے

یہ کیا ہو رہا ہے یہ کیا ہو رہا ہے
خاکِی کہاں ہیں یہ اِنْسَان کون ہے

کیا لُٹ چُکا تھا اور کیا رہ گیا ہے
اِک لفظوں سے جِیتا بے زُبان کون ہے

اب جو مرے دِل میں رہنے لگا ہے جُنید
وہ خاکِی نہیں تو بے نِشان کون ہے

کیا کشمکش سِی چھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


کیا کشمکش سِی چھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں
کِس اِنقلاب کی صَدا پائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


آو جَلاتے ہیں چَراغ جُنُون کی آتِش سے
وہ بھڑکے گِی آگ جو لگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں

یُوں گُم سُم سے خُود میں تیرے سامنے آئے ہیں
یہ کیسی اُلجھن بنائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


جاں بر سِی زخمی یہ خُودِی کِس مرتبے پے پہنچی
کیا صدا وہاں گُنگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


کیا کہہ گئے تھے وہ اِس حالتِ تَوَاجَدْ میں
کہ دِن میں رات دِکھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


میں دِل یہ اپنا بے حال سا لیے رہ گیا ہوں
کیا گُفتگو رچائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


جا بیچ دے خُود کو کوڑیوں کے بَھّاو جُنید
کیا انمول قیمت لگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں

نقشِ خیالِی دِل میں سجا رکھا کیسا


نقشِ خیالِی دِل میں سجا رکھا کیسا
دل کے گھر میں بستر لگا رکھا کیسا


یُوں تو خُوار پِھرتے ہیں غم میں کب سے
تو شہرِ اَمن میں ٹِھکانا بنا رکھا کیسا


نہ اُلفَت راس آئی مُجھے ایک دور میں
اب ہر سُو یار کا چرچا جَگا رکھا کیسا


آنکھوں کی جِھیل کے پانِی پر عکس چھایا
کیوں خُود کو اُس میں ڈُوبا رکھا کیسا


دِل کی دُنیا اُس کے جانے سے ویران ہو گئی
تو اب سوگ میں خُوشی کو بچا رکھا کیسا


اِک لمحے تو ذَرّا یہ سوچ لو نا جُنید
کیوں خُود میں نہ خُود بتا رکھا کیسا

پُکار دیکھ تُو ذرا اُس پار آسمان میں


پُکار دیکھ تُو ذرا اُس پار آسمان میں
پنچھی اُڑ چُلے اُس اُونچے بیابان میں

منزل کو ڈُھونڈُوں جب تک خُودِی سے دُور ہُوں
جو جان گئے پامال ہُوئے اُس لامَکان میں

نہ برستا رہ یُوں بارش کے قطروں کی طرح
کہ مٹ گئے سارے اُس شِدَّتَ طُغیان میں

کر وفا اُن سے جو جانانِ جاناں ایمان کے
وہ جیت چلے بازی اور پہنچے اُس جہان میں

کیا شک کی نِگاہ سے دیکھا تُو نے ایک نظر
کہ ڈُوب گئے سارے اپنے فَہم و گُمان میں

پڑ جائے گی عادت اب تو اُس یار کی جُنید
جو رہ گئے صرف اُجڑے گُلِستَان میں

اکثر تیرا مِلنا مُجھے یاد آتا ہے


اکثر تیرا مِلنا مُجھے یاد آتا ہے
مل کر بچھڑنا مُجھے یاد آتا ہے

ٹھنڈی ہوا کی مانند تیری باتیں
اور اپنا سرد ہونا یاد آتا ہے

شوخ رنگوں میں بھیگا سا وہ آنچل
اور تیرا آنسُو بہانا یاد آتا ہے

مُشکِلوں کے دریا میں ڈُوبنا میرا
بچ نِکلنے میں سہارا یاد آتا ہے

تُو بچھڑ گیا کب کا مگر ایسا لگتا ہے
تُو ابھی بچھڑا ہے جیسے یاد آتا ہے

میں تنکا تھا تُو نے مُجھ کو ہیرا سمجھا
تیرا وہ تعریف کرنا یاد آتا ہے

تو جب گھائِل ہوتا تو رویا کرتا تھا
مُجھے تیرا آنسُو بہانا یاد آتا ہے

میں بِکھر کر آتا تیری پناہ پاتا
تیرا وہ دِلاسہ دینا یاد آتا ہے

تری آنکھو‌ں سے بہتے ساگر کو سمیٹنا
اور پلکوں پر سجانا یاد آتا ہے

عرصہ ہو چلا جُنید وہ دُور ہو چُکا ہے
لگتا ہے بچھڑا ہو ابھی یاد آتا ہے

Download here.

جشن تیری یادوں کے آنے کا منایا ہے


جشن تیری یادوں کے آنے کا منایا ہے
ہر سُو تیری آمد کا چرچا کرایا ہے

تیری خاطِر خُوشیوں سے مُنہ موڑ رکھا ہے
تیرے لیے ہی خُود کو میں نے آگ میں جَلایا ہے

قسم خُدا کی تُجھ سا حَسِیں مری آنکھوں نے نہ دیکھا ہے
جب سے تیرا جلوہ میری آنکھوں میں سمایا ہے

کیا بسے گا کوئی گُل و زار آنکھوں میں
تیرے دَرّ کا خَار میں نے آنکھوں میں سجایا ہے

کاہے کو مُشکِل میں میں تنہا ہو جاوں گا
اُمید سے ہوں ترا سنبھالا کام آیا ہے

کیوں نہ تیرے آنے سے خُوشیاں مناؤں میں
ہر ذَرّے نے ترے آنے کا جشن منایا ہے

جِس خَار کو چُھوا تُو نے پُھول بنا دِیا اُس کو
اور تُو نے آتے جاتے مُردہ جِلایا ہے

غم کے بادَل چَھٹ گئے روشنی ہُوئی چار سُو
یہ اُجالا ترے چہرے کی صُبح نے پھیلایا ہے

تیری آمد سے ہر غم خُوشی میں بدل گیا میرا
مگر تیری یاد نے مُجھے زار و زار رُلایا ہے

خیر سے آئیں وہ دِن زِندگی میں میری
میں کہوں دَرّ کا مُجھے خاکروب بنایا ہے

تُجھ سے نہ مانگیں تو کِدھر کو جائیں ہم
کیوں دَرّ دَرّ پِھریں سَگ یہاں دانہ پانی پایا ہے

تیرا کرم ہے پیارے جو مقام میں نے پایا ہے
ورنہ مُنہ کہاں جُنید کا جو لفظوں نے دِکھلایا ہے

Download here.

وہ ساون جو میری آنکھوں میں آیا ہے


وہ ساون جو میری آنکھوں میں آیا ہے
بہہ بہہ کر میرے لمحوں کو سجایا ہے

ترے چہرے کو ڈُھونڈتی ہیں آنکھیں کب سے
تبھی اِس محفِل کو سوگوار بنایا ہے

دِلِ بِسمِل کی اب کون ہے جو دوا کرے گا
یہ زخم اُس تیر کا ہے جو یار نے چلایا ہے

سِسک سِسک کر زندگی کے لمحے تھمتے ہیں
کیسا ہے چاہنا تیرا جو آپ دے کر رُولایا ہے

میں ڈُوب چُکا ہوں اُس سمُندر میں جُنید
جو میرے یار نے اشکوں کا بہایا ہے

میری آنکھیں بھیگی ہیں آنسُو بے حِساب بہتے ہیں
تُو کِس قدر پیارا ہے جو یادوں میں سمایا ہے

تُجھے یاد کرتا ہوں تُو جانے ہے میں کون ہوں؟
ہاں وہی جِس نے غم میں اپنا آپ جلایا ہے

تُو ہنس رہا ہے کیسے تیرا دِل غم سے گھائل ہے
میں رو ریا تنہا تیری باتوں نے ستایا ہے

قدر تُو نے کی سب نے ٹُھکرا دیا تھا مُجھ کو
یہ دِل لگایا کیوں اُس سے جو آنکھوں میں سجایا ہے

میں اَشکوں میں اپنی قلم ڈُوبائے بیٹھا ہوں جُنید
اب غم یہ جا چُکے ہیں جب لفظوں کو نچایا ہے

تیرا دُور ہونا مُجھ سے مُجھے کھائے جاتا ہے
تُو کیسا ہے دُور رہتے گھر دَل میں مرے بنایا ہے

میں سب رکھے بھی خُودی سے مُفلِس ہو گیا ہوں
تیرے لیے میں نے دِل کا ہر ارماں لُٹایا ہے

کُچھ تو رحم کر لے چند لفظ بھیک دے دے
اُنہی لفظوں کی دینا جن میں اپنا مُجھے بتایا ہے

میں دوستوں میں رہ کر بھی تنہا ہو چُکا ہوں
کیسا ہے ساتھ تیرا جو یادوں نے دِکھلایا ہے

میں غم سے چُور ہوں تُجھے یاد کرتا ہوں
تُو نے ہر مُشکِل میں ساتھ میرا نِبھایا ہے

انجان نگر میں دُوجے لُوٹ سکے نہ مُجھ کو
یار تُو کیسا ہے جس نے خُودی پر لُٹوایا ہے

یہ غم سے بھرا افسانہ کیا لِکھ دیا ہے جُنید
جہاں سیدھا لگنا تھا وہاں اُلٹا ہی گِرایا ہے

Download here.