حرفِ آغاز


میرے آقا حُضُور سیدی اعلٰی حضرت رَضِی اللہ عنہُ اپنے
،شہرہ آفاق کلام حداحِق بخشِش میں فرماتے ہیں

کیسے آقاوں کا بندہ ہُوں رضا
بول بالے میری سرکاروں گے


،اور میرے آقا سیدی باپا امیرِ اہلِسُنت مَدَظِلہ فرماتے ہیں

تُو ہے بے کسوں کا یاور، اے میرے غریب پرور
ہے سخِی تیرا گھرانا، مَدَنِی مَدِینے والے
صلی اللہ علیہِ وَسَلم

،سگِ عطار و رضا
جُنید عطارِی

کیا کشمکش سِی چھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


کیا کشمکش سِی چھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں
کِس اِنقلاب کی صَدا پائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


آو جَلاتے ہیں چَراغ جُنُون کی آتِش سے
وہ بھڑکے گِی آگ جو لگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں

یُوں گُم سُم سے خُود میں تیرے سامنے آئے ہیں
یہ کیسی اُلجھن بنائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


جاں بر سِی زخمی یہ خُودِی کِس مرتبے پے پہنچی
کیا صدا وہاں گُنگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


کیا کہہ گئے تھے وہ اِس حالتِ تَوَاجَدْ میں
کہ دِن میں رات دِکھائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


میں دِل یہ اپنا بے حال سا لیے رہ گیا ہوں
کیا گُفتگو رچائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں


جا بیچ دے خُود کو کوڑیوں کے بَھّاو جُنید
کیا انمول قیمت لگائی ہے تُجھ میں اور مُجھ میں

2 comments:

کِسی بھی قِسم کی فُضُول بات نہ لِکھیں۔ کوئی ایسی بات جو غُضہ اُبھارے یا کِسی قِسم کا اِشتعال پیدا کرے سختِی سے منع ہے۔

شُکریہ