حرفِ آغاز


میرے آقا حُضُور سیدی اعلٰی حضرت رَضِی اللہ عنہُ اپنے
،شہرہ آفاق کلام حداحِق بخشِش میں فرماتے ہیں

کیسے آقاوں کا بندہ ہُوں رضا
بول بالے میری سرکاروں گے


،اور میرے آقا سیدی باپا امیرِ اہلِسُنت مَدَظِلہ فرماتے ہیں

تُو ہے بے کسوں کا یاور، اے میرے غریب پرور
ہے سخِی تیرا گھرانا، مَدَنِی مَدِینے والے
صلی اللہ علیہِ وَسَلم

،سگِ عطار و رضا
جُنید عطارِی

نقشِ خیالِی دِل میں سجا رکھا کیسا


نقشِ خیالِی دِل میں سجا رکھا کیسا
دل کے گھر میں بستر لگا رکھا کیسا


یُوں تو خُوار پِھرتے ہیں غم میں کب سے
تو شہرِ اَمن میں ٹِھکانا بنا رکھا کیسا


نہ اُلفَت راس آئی مُجھے ایک دور میں
اب ہر سُو یار کا چرچا جَگا رکھا کیسا


آنکھوں کی جِھیل کے پانِی پر عکس چھایا
کیوں خُود کو اُس میں ڈُوبا رکھا کیسا


دِل کی دُنیا اُس کے جانے سے ویران ہو گئی
تو اب سوگ میں خُوشی کو بچا رکھا کیسا


اِک لمحے تو ذَرّا یہ سوچ لو نا جُنید
کیوں خُود میں نہ خُود بتا رکھا کیسا

No comments:

Post a Comment

کِسی بھی قِسم کی فُضُول بات نہ لِکھیں۔ کوئی ایسی بات جو غُضہ اُبھارے یا کِسی قِسم کا اِشتعال پیدا کرے سختِی سے منع ہے۔

شُکریہ